تہران،28؍نومبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایران میں مذہبی شخصیات کے لیے مختص عدالت نے احمد منتظری کے خلاف 21سال قید اور مذہبی شخصیات کی خلعت اتار دینے کا فیصلہ سنایا ہے ۔ احمد منتظری متوفی شیعہ مرجع آیت اللہ حسین علی منتظری کے بیٹے ہیں جو 1988میں اپنے معزول کیے جانے تک ایرانی انقلاب کے مرشد اول خمینی کے جاں نشیں رہے تھے۔ منتظری کو یہ سزا اُس صوتی ٹیپ کو جاری کرنے کے سبب دی گئی ہے جس میں اُن کے والد کی " ڈیتھ کمیشن" کے ارکان کے ساتھ گفتگو شامل تھی۔ مذکورہ ڈیتھ کمیشن نے 1988کے موسم گرما میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر قتل عام کا ارتکاب کیا تھا۔آیت اللہ منتظری کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق عدالت نے احمد منتظری کی عمر اور مقام کے پیش نظر صرف 6برس کی سزا پر عمل درامد کا فیصلہ کیا ہے۔ اس رعایت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا ایک بھائی ایران عراق جنگ کے دوران محاذ پر مارا گیا تھا۔احمد منتظری پر اپنے والد کا صوتی ٹیپ افشا کرنے کے سبب "قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے" کا مورود الزام ٹھہرایا گیا۔احمد منتظری نے اپنے ایک سابقہ بیان میں کہا تھا کہ ان کے پاس ابھی بہت سے دستاویزات موجود ہیں جن کو مستقبل میں منظرعام پر لایا جائے گا۔
مذکورہ صوتی ٹیپ کا افشا کیا جانا ایرانی حلقوں میں ابھی تک متنازعہ امر بنا ہوا ہے۔ اگرچہ وزارت انٹیلی جنس نے منتظری کے بیورو اور بیٹے پر شدید دباؤ ڈالا یہاں تک کہ احمد منتظری نے اُس صوتی ٹیپ کو ویب سائٹ پر سے حذف کر دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ٹیپ کو ایرانی نظام کی قیادت کے خلاف عدالتی کارروائی کے واسطے ایک ناقابل تردید دستاویز قرار دیا۔صوتی ٹیپ میں ریکارڈ ہونے والی گفتگو میں آیت اللہ حسین علی منتظری نے غیر منصفانہ عدالتی کارروائیوں اور انتقامی جذبے کی بنیاد پر 1988میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو موت کی نیند سُلا دینے کے ذمے دار’’ڈیتھ کمیشن‘‘کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یقیناًتم لوگوں نے اسلامی جمہوریہ کی تاریخ میں سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے.. تاریخ خمینی کو ایک مجرم اور خونی شمار کرے گی۔ منتظری کے اس موقف کا نتیجہ خمینی کی جانب سے ان کی برطرفی کی صورت میں سامنے آیا۔مذکورہ متنازعہ صوتی ٹیپ کے باعث بین الاقوامی سطح پر ایرانی ڈیتھ کمیشن کے ارکان کے احتساب کا مطالبہ سامنے آیا۔ یورپی پارلیمنٹ میں 60ارکان نے 7اکتوبر کو اپنے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا کہ 1988میں ایران میں سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والی ایرانی نظام کی قیادت کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔ارکان پارلیمنٹ نے سیاسی قیدیوں کے قتل عام کوانسانیت کے خلاف جرمقرار دیا جس پر مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ قتل عام کا شکار بننے والے بہت سے افراد کے خلاف قید میں رکھے جانے کے احکامات جاری ہو چکے تھے اور ان میں بہت سے یا تو اپنے فیصلے کی مدت گزار رہے تھے یا قید کی مدت پوری کر چکے تھے۔ موت کا شکار ہونے والے دیگر قیدیوں کو پہلے رہا کر دیا گیا تھا تاہم خمینی کے فیصلے کے بعد انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا یا پھر ان افراد میں سے تھے جن کے ایرانی اپوزیشن کی تنظیم "مجاہدین خلق" ارکان کے ساتھ گھریلو نوعیت کے تعلقات تھے۔